پروفیسر بابر خان کی ملازمت سے سبک دوشی کے موقع پر لکھی گئی تحریر

ہر دل عزیز،عظیم اور عدیم النظیر پروفیسر محمد بابر خان صاحب (صدر شعبہ اردو،اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء ایف ٹین فور) 31مئی 2024 کو اپنے پیشہ ورانہ تدریسی فرائض سے سبکدوش ہو گئے۔
پروفیسر محمد بابر خان صاحب اپنی بے باک و سحر خیز شخصیت ، پرخلوص و گرجدار اندازِ تدریس، رواں اور ادبی محاسن کی حامل گفتگو، پابندیٔ وقت،افسر بالا کی جانب سے تفویض شدہ کام کی تکمیل تک سراپا سیمابی کیفیت میں مبتلا رہنے والی طبیعت،اپنی ذات،املاک،شعبہ اور فرائضِ منصبی سے متعلق ایک ایک دستاویز کی نگہداشت، شاعر مشرق علامہ اقبال کی شخصیت و افکار سےعشق،وطن عزیز اور قومی زبان و لباس سے بے حد لگاؤ ، رفقائے کار کے مسائل حل کرنے کے لیے بلا تکلف پیش پیش رہنے کی روش،اپنے ماتحت رفقائے کار کے ساتھ برادرانہ شفقت و محبت بھرے برتاؤ اور اپنے افسرانِ بالا کی بھرپور پیشہ ورانہ معاونت کے باعث وفاقی سرکاری کالجوں میں بالعموم جبکہ ایف ٹین فور کالج کی تاریخ میں بالخصوص اپنی منفرد اور اجاگر پہچان رکھتے ہیں۔
بتیس(32)سالوں پر محیط ان کی پیشہ ورانہ تدریس کا ماحصل سیکڑوں طلباء اس وقت پورے پاکستان میں قابل ذکر و قدر عہدوں پر اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پروفیسر محمد بابر خان صاحب اپنی ذات و صفات میں بلا شبہ ایک جیتی جاگتی
انجمن ہیں۔تدریسی عملہ ہو یا انتظامی عملہ یا غیر تدریسی عملہ و طلباء ،سب کے دلوں میں پروفیسر محمد بابر خان کے لیے محبت اور عزت و احترام پایا جاتا ہے۔پروفیسر محمد بابر خان صاحب کی شخصیت ایف ٹین فور کالج کے لیے بالعموم اور اس کے شعبۂ اردو کے لیے بالخصوص باعثِ افتخار رہی ۔یہ کہنا بھی مبالغہ نہ ہوگا کہ وہ موجودہ وفاقی سرکاری کالجوں(Ex FG Colleges) میں خدمات انجام دینے والے حاضر سروس پروفیسروں میں واحد جامع الاضداد، مجتمع الصفات، سریع الاثر ، وسیع المشرب شخصیت اور مایہ ناز پروفیسر ہیں۔
پروفیسر محمد بابر خان کو اللہ نے یہ خوبی بھی عطا فرمائی ہے کہ وہ اپنے کرشماتی اندازِ تدریس،خلوص و ہمدردی، باقاعدگی،برجستگی و بے ساختگی ،دلکش اسلوب بیان اور جلال و جمال کی پوری کمیت و کیفیت سمیت اپنے طلباء و رفقاء کے حافظوں میں ہمیشہ کے لیے بصد احترام محفوظ ہو جاتے ہیں۔ بلا شبہ انھیں وفاقی سرکاری کالج بالعموم جبکہ ایف ٹین فور کالج کا عملہ بالخصوص تادیر اردو زبان و ادب کے ایک مثالی پروفیسر کے طور پر یاد رکھے گا اور ایک خوشگوار،لائقِ تقلید،کمیٹڈ،مخلص و ہمدرد پروفیسر کی اجاگر مثال کے طور پر بطور حوالہ ان کا نام لیا جاتا رہے گا۔
پچھلے ایک ماہ سے ان کے مختلف احباب و رفقاء کی جانب سے الوداعی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔آج 30 مئی 2024ء کو اسلام آباد ماڈل کالج برائے طلباء ایف ٹین فور میں باقاعدہ ایک پروقار الوداعی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
راقم الحروف کو فروری 2009ء سے تا ایں دم یعنی 31مئی 2024 تک ان کے رفیقِ کار رہنے کا شرف حاصل رہا اور پیشہ ورانہ زندگی کے کم و بیش ان پندرہ سالوں میں ان کے پیشہ ورانہ معمولات اور روشِ تدریس و انتظام سے بہت کچھ سیکھا ،سمجھا اور جانا۔ پروفیسر محمد بابر خان صاحب کی معیت و رفاقت میں گزرے ہوئے یہ پندرہ سال زندگی کے خوب صورت و ثمربار و یادگار دور کے طور پر راقم الحروف کے حافظے میں تادم حیات محفوظ رہیں گے اور ان کی صحت مندانہ و طویل زندگی کےلیے از تہ دل دعاؤں کا سبب و وسیلہ بنتے رہیں گے۔
ان شاءاللہ بشرطِ فرصت ایک مفصل مضمون پروفیسر محمد بابر خان صاحب کی شخصیت پر ایک مفصل مضمون استفادۂ عام کے لیے لکھوں گا ۔سردست ان کی شخصیت و خدمات کی تحسین کے طور پر ان کے رفقاء،شاگردوں اور احباب کے لیے انہی چند سطور پر بوجوہ اکتفاء کیا جاتا ہے۔
دعا ہے کہ پروفیسر محمد بابر خان کو صحت و سلامتی و شادمانی کے ساتھ عمرِنوح نصیب ہو۔پوسٹ میں صرف ایف ٹین فور کالج میں منعقدہ الوداعی تقریب کی محض چند تصویری جھلکیاں شئیر کی جارہی ہیں۔

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *