پروفیسر بابر خان کے اعزاز میں دی گئ الوداعی تقریب میں پڑھا گیا مضمون

یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہر اقتدار میں میری پہلی تعیناتی بطور لیکچرار ہائیر سیکنڈری سکول ٹی اینڈ ٹی کالونی جی ایٹ میں ہوئی. کالج کے انتظامی امور سیکنڈری سکول کے پرنسپل کے ذمہ تھے مگر انٹر کالج کے ایک وائس پرنسپل پروفیسر خلیل صاحب بھی تھے. خلیل صاحب شاعر مزاج آدمی تھے. انہوں نے ایک دن اپنی وائس پرنسپلی کی دستار جناب پروفیسر انتظار علی مغل صاحب کے سر باندھ دی
جناب مغل صاحب منسٹری میں اپنی سابقہ نوکری کے دوران افسر شاہی اور انتظامیہ سے مخاصمت کا وسیع تجربہ رکھتے تھے. انہیں سابقہ نوکری کے دوران پھڈوں کے بعد انکوائری سے بچ نکلنے کا زعم اور اعتماد بھی تھا. وائس پرنسپل بننے کے بعد مغل صاحب نے ‘تخریب بسلسلہ تعمیر’ کے سنہرے اصول پر عمل کرتے ہوئے اچھے خاصے چلتے نظام کو مزید بہتر بنانے کے لئے ‘اصلاحی لٹھ ‘ اٹھا لی. مگر قحط الرجال زدہ اس معاشرے کو بھلا مغل صاحب جیسا ‘مصلح’ کہاں برداشت ہوتا ہے. چنانچہ مغل صاحب کی ان اصلاحی کاوشوں کو انتظامیہ کے بڑوں نے الم بغاوت بلند کرنے سے تعبیر کیا. انہوں نے روز روز کی جھک جھک سے تنگ آکر انٹر کالج ٹی اینڈ ٹی کی بساط لپیٹ دی اور پورے سٹاف کو کالج سے مع نان نفقہ فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج ایف ٹن فور ٹرانسفر کر دیا- ہائر سیکنڈری سکول کے اساتزہ ایف ٹین کالج میں آکر اپنے آپ کو پروفیسر پروفیسر سا محسوس کرنے لگے. یہاں کے پرنسپل ڈاکٹر نادر خان نہایت ایماندار اور فرض شناس شخص تھے. ڈاکٹر صاحب علی الصبح کالج میں تشریف لے آتے، ہر آنے والے رفیق کار کا استقبال خود کرتے، ان کی حرکات و سکنات، وقت کی پابندی اور جملہ اعمال کا بغور جائزہ لیتے اور پھر اپنی زنبیل میں سے ڈائری نکال کر منکر نکیر کی طرح اس میں نوٹ کر لیتے. پروفیسر اپنے لچھن اس طرح قلمبند ہوتے دیکھ تشویش کا اظہار کرتے مگر اللہ بخشے ڈاکٹر صاحب نے کبھی کسی کو قلم کی مار نہ دی
ایف ٹن کالج میں پہلے سے موجود پروفیسروں میں کچھ سینئر اور کچھ جونیئر لوگ موجود تھے. ابتدائی دنوں میں جب میں نے سٹاف روم میں نظریں گھمائیں تو میری نظر ایک شعلہ بیان شخصیت پر پڑی. یہ شعلہ بیان شخصیت پروفیسر بابر خان تھے. چہرے پر کالے شیشوں کی عینک اور خسساسی داڑھی سجائے وہ مجھے مولانا کوثر نیازی کی طرح لگے. بعد میں پتا چلا کہ کوثر نیازی ان کے پسندیدہ لیڈر بھی ہیں. بابر خان طالب علمی کے زمانے میں اپنی قائدانہ صلاحیتیں منوانے کے بعد کالج سٹاف کے میر کارواں بھی بن گئے تھے. بابر خان اپنی بے پائیاں محبت اور بے لوث اخلاص و مروت سے دل و دماغ پر راج کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے تھے. زندگی کے دوسرے معاملات کی طرح بابر خان محبت میں بھی قوائد و ضوابط اور اصولوں پر چلنے کے قائل تھے. وہ محبت اپنی شرائط پر کرتے اور محبت کرنے والے کو بھی ان شرائط پر پورا اترنا لازم قرار دیتے. اُس وقت تک بابر خان کی فرض شناسی، وقت کی پابندی اور درس و تدریس کے چرچے دور دور تک پھیل چکے تھے. ان کی گھن گرج اور تدریس کے دوران ان کے ‘مکبرالصوت’ ہونے کے اثرات کالج کی سڑک سے پار یو این او کے دفتر تک جا پہنچے. ایک دن اس دفتر سے ایک صاحب تشریف لائے اور بابر خان کا شکریہ ادا کیا کہ بابر خان کے لیکچر کے دوران ان کے دفتر کے اکثرلوگ سبق کے مندرجات کو صاف صاف سنتے ہیں اور یوں وہ اردو گرامر اور غالب و اقبال کی شاعری کی توجہات سے واقف ہو گئے ہیں. راقم الحروف بزات خود بابر خان صاحب سے زانوئے تلمیز طے کر چکا ہے. میرے پیریڈ کے دوران جب بابر خان کالج کے کسی کونے کھدرے میں پڑھا رہے ہوتے تو مجھے بھی اردو زبان و ادب سیکھنے کا موقع ملتا. سچ تو یہ ہے کہ آج اگر میں ٹوٹی پھوٹی اردو لکھ لیتا ہوں تو یہ بابر خان کی بدولت ہے.
بابر خان ایک عمدہ استاد اور ذمہ دار رفیق کار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل ڈائریکٹری بھی ہیں. ان کو اپنے تمام سینئر و جونیئر ساتھیوں کی تاریخ پیدائش، اگلے گریڈ میں ترقی کی تاریخ، ریٹائرمنٹ کی تاریخ اور تاریخ وفات تک سب یاد ہیں. آیک دن جب میں نے اُن سے اُن کے اگلے گریڈ میں ترقی کی کی تاریخ پوچھی تو بابر خان نے مجھے بتایا کہ اُن کی ترقی 2006 کے چوتھے مہینے میں ہو جائے گی. البتہ میری ترقی کے بارے مجھے آگاہ کیا کہ وہ 2007 میں ہو جائے گی.
آخر وہ سال آ ہی گیا جب بابر خان ترقی پانے والے تھے. وہ 13 سال 17 گریڈ میں رہ کر کائی زدہ ہو چکے تھے. ترقی کی خوشی میں وہ پہلے سے زیادہ ہشاش بشاش نظر آنے لگے. وہ اکثر اپنے گروپ میں ترقی پانے والے دوسرے ساتھیوں کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے مبادا کسی کا ریکارڈ نامکمل رہ جائے اور دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوں. مگر بابر خان صاحب کی خوشی پر اُس وقت پانی پھر گیا جب انہیں معلوم ہوا کہ میرا نام بھی ان کے ترقی پانے والے گروپ کے ساتھ بطور کورنگ کینڈیڈیٹ نتھی کردیا گیا ہے. زرا تصور کیجئے کہ میرے جیسا سست آدمی جس نے اپنی زندگی اور ترقی کے معاملات کو ‘آٹو’ پر لگایا ہوا تھا اسے اس طرح اُن کی ترقی سے نتھی کر دیا جائے… یہ معاملہ کسی وبال سے کم نہ تھا. چنانچہ یہ خبر سنتے ہی بابر خان نے میرا ملازمتیں ریکارڈ کالج کے دفتر سے نکلوایا، اس کی جانچ پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ میری دو عدد اے سی آر جمع نہیں ہوئی تھیں. بابر خان نے دو عدد اے سی آر کے فارم لئے اور میرے پاس تشریف لے آئے. میں اُس وقت سٹاف روم میں ٹانگیں پسارے کسی گہری سوچ میں گم تھا. بابر خان نے مچھے جھنجھوڑتے ہوئے اپنی مجبوری اور میری ترقی کی ہلکی سی امید بطور کورنگ کینڈیڈیٹ بتائی اور مجھے ساتھ لے کر سابقہ پرنسپل صاحبان کے گھروں کو چل دئے. راستہ سے دو میٹھائی کے ڈبے اپنی جیب سے خریدے اوررپورٹنگ آفیسرز یعنی پرنسپل صاحبان کے سامنے میری مدح سرائی کی جس کا میں ہرگز اہل نہ تھا اور یوں بابر خان نے میری دو عدد اے سی آر بہترین لکھوا کر جمع کروا دیں. اس طرح اگلے سال میری ترقی کے وقت میرا ریکارڈ مکمل ہو چکا تھا.
بابر خان سے تمام پرنسپل صاحبان بہت خوش رہے. انہوں نے بابر خان کی بہترین اے سی آر لکھیں. ظاہر ہے کہ یہ بہترین کارکردگی رپورٹس بابر خان کی عمدہ کارکردگی پر لکھی گئیں. ہمارے ایک ڈی جی برگیڈیر صاحب ہوا کرتے تھے. جب انہوں نے بابر خان کی عمدہ کارگردگی کی رپورٹس دیکھیں تو بہت مشکوک ہوئے. بھلا ایک قوم کے معمار کی کارکردگی اس قوم کو اس حال تک پہچانے والے قوم کے فیصلہ سازوں سے بھی بڑھ کر کیسے ہو سکتی ہے. لہزا برگیڈیر صاحب نے بابر خان کو دفتر طلب کیا، انہیں سر سے پاوں تک غور سے دیکھا اور پھر ٹٹول کر تسلی کی کہ بابر خان جیتا جاگتا انسان ہی ہے. برگیڈیر صاحب نے حفظِ ماتقدم کے طور پر بابر خان کی دو اے سی آر کی تنزلی کر دی یعنی ڈی گریڈ کر دیا تاکہ ان کا نام کہیں ‘گینس بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج نہ ہو جائے.

مجھے جناب بابر خان صاحب کا پڑوسی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے. جب میں 2018 میں ڈیپوٹیشن سے واپس لوٹا تو مجھے بابر خان کی دعاؤں اور متعلقہ محکمے کے اہلکاروں کو دی گئی بخشیش کی برکت سے بابر خان کے عین سامنے والا مکان الاٹ ہو گیا. بطور پڑوسی مجھے جناب بابر خان کے بارے میں کچھ ایسے انکشافات ہوئے جو مجھ پر پہلے عیاں نہ تھے. مجھ پر منکشف ہوا کہ بابر خان کی زندگی کا ہر لمحہ اور معمول اجرام شمسی و فلکی کے حرکات و ترتیب نظم وضبط کی مانند منٹوں سیکنٹوں اور مائیکرو سیکنڈ سے جڑا ہے. خواب گاہی کا وقت رات نو بجے شروع ہوتا ہے لہزا نیند کی مجال نہیں کہ وہ رات کے نو بجے یا بعد ان کی خواب گاہ پر دستک دے اور نہ ہی سحر خیزی کے معمولات میں بیداری کو تجاوز کرنے کی اجازت. محترم بابر خان کی زندگی کا یہ نظم وضبط، وقت کی قدر و پابندی اور معمولات کی یہ ترتیب دیکھ کر میرے جیسے بے ترتیب انسان کا گھبرانہ قدرتی امر تھا. چنانچہ میں نے سوچا کہ بابر خان کی زندگی کے معمولات میں دخل در معقولات کرنا بہت ‘نامعقولات’ میں شمار ہوگا. لہزا بطور پڑوسی میں نےخاموشی کو اپنا شعار بنایا.
زندگی کی اسی ترتیب، وقت کی پابندی، محنت شاقہ اور 32 سال اس ادارے کو دے کر ‘وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کر’ کے مصداق بابر خان آخر ریٹائر ہو رہے ہیں. بقول پروفیسر راشد صاحب، بابر خان کی ریٹائرمنٹ بگ بینگ کے بعد کائنات میں دوسرا بڑا واقعہ ہے. یہ بات سچ ہے کیو نکہ بابر خان جیسی بڑی اور نامور شخصیت کا ادارے سے چلے جانا ایک بڑا واقعہ ہے. کیونکہ ادارے اینٹوں اور سیمنٹ سے نہیں، شخصیات اور ان سے جڑی روایات سے بنتے ہیں.
(آخر میں پنجابی میں لکھے چند تاثرات)
بابر خان ہنر ٹر چلیا اے تے اپنے مگروں کئی سیاپے پا چلیا اے. انہیں 32 وریاں اچ پیار انج ونڈیا جیویں کسے فقیر دے مزار تے کوئی بھنڈارا ونڈدا اے. بھنڈارا ونڈن آلے نوں پتا نئی ہوندا کہ بھنڈارا لین آلا کوئی وڈا اے یا نکا تے نا ای بھنڈارا لین آلیاں نوں پتا ہوندا اے کہ بھنڈارا ونڈن آلا کوئی نکا اے یا وڈا. بابر خان دی پیار دی ونڈ محمدی ونڈ سی. انیں کالج دی دھوڑ گھٹا جھپن آلے نکے ملازم توں لے کے ٹھنڈے کمرے اچ بیٹھے وڈے صاب تک ساریاں نوں اکو جئی پیار دی جپھی پائی. بابر او مونڈا سی جتھے ہر نکا تے وڈا سر رکھ کے اپڑیں دکھڑے رو لیندا سی تے بابر وی اپڑیں ہنجواں نال انہاں دے زخماں تے ملم رکھ دیندا سی. ہن سیاپا ایہ پے گیا اے کہ دوجیاں دے دکھاں دا بھار چکن آلا او مونڈا نئی رہناں تے دوجے مونڈے تے اُنج ای اپنے اپنے بھار تلے لفے پئے نیں. ایہ بابر ای سی جنیں اپنے دکھ تے ہنجو پی کے دوجیاں دے دکھ ونڈے. میاں محمد صاب پنجابی دے وڈے شاعر نیں. آنہاں اک واری کیا سی…
ہاسے کھیڈاں نال لے جا کے پا گیوں سن فکراں
پاٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیوں وچ ککراں
بابر خان ہنڑ ٹر چلیا اے تے ساڈی دعا اے کہ ایہ جتھے وی روے ہسدا کھیڈدا روے. انوں کدی تتی وا نہ لگے، ایہ اپڑیں نیاڑیاں دی خوشیاں ویکھے تے کدی کدی ساڈی اکھیاں آج ٹھنڈ پان لئی اپنا درشن کرا دتا کرے…
رب راکھا.

One Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *